Monday, August 24, 2020
Thursday, August 20, 2020
Rahat Ko Rahat Mil Gayi
Rahat Ko Rahat Mil Gayi - Maulana Rahat Abbas Manglori Rukhsat ho gaye -
Author: Maulana Syed Ghafir Rizvi Chhaulsi (Editor of Saghar e iLm Foundation)
Published: Avadhnama 21 Aug 2020 - 21/08/2020 - Friday
راحت کو راحت مل گئی - مولانا راحت عباس منگلوری رخصت ہوگئے
تحریر: مولانا سید غافر رضوی مدیر ساغر علم فاؤنڈیشن دھلی
राहत को राहत मिल गई - मौलाना राहत अब्बास मंगलोरी रुख़्सत हो गए -
लेखक: मौलाना ग़ाफ़िर रिज़वी छौलसी - साग़र ए इल्म फ़ाउंडेशन दिल्ली -
Monday, August 17, 2020
Intezar e Moharram
Intezar e Moharram Corona Virus ke Tanazur me Maulana Syed Ghafir Rizvi Falak Chhaulsi - انتظار محرم کرونا وائرس کے تناظر میں: مولانا سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی
انتظارِ محرم
?سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی
غمِ وصالِ محرم دلِ دیار میں ہے
سکوں کی سانس بھی اب قید اضطرار میں ہے
فلکؔ نشینوں کے پہلو میں بیٹھنے کے لئے
ہمارا قلب محرم کے انتظار میں ہے
?سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی
غمِ وصالِ محرم دلِ دیار میں ہے
سکوں کی سانس بھی اب قید اضطرار میں ہے
فلکؔ نشینوں کے پہلو میں بیٹھنے کے لئے
ہمارا قلب محرم کے انتظار میں ہے
Intezaar e Moharram
@Maulana Ghafir Rizvi Falak
Chhaulsi
Gham e Visaal e Moharram Dil e Dayaar me hai
Suku’n ki saa’ns bhi ab qaid e iztreraar me hai
Falak Nashino’n ke Pahlu
me bethne ke liey
Hamara qalb Moharram ke intezaar
me hain
इंतेज़ारे मौहर्रम
@मौलाना ग़ाफ़िर रिज़वी फ़लक छौलसी
ग़म ए विसाले मौहर्रम दिले दयार में है
सुकूँ की सांस भी अब क़ैदे इज़्तेरार
में है
फ़लक नशीनों के पहलू में बैठने के लिए
हमारा क़ल्ब मौहर्रम के इंतेज़ार में है
Monday, July 6, 2020
Jarcha Sadat - Ek Nazar
جارچہ سادات - ایک نظر
(مولانا سید غافر رضوی چھولسی (دہلی
جارچہ سادات ( जारचा )، صوبہ اتر پریش کے ایک ضلع " نوئیڈا" میں شمار ہوتاہے۔ جارچہ کا راستہ دادری سے نکلتا ہے جو جارچہ کی تحصیل بھی شمار ہوتی ہے۔ اس بستی کے سادات کا سلسلہء نسب امام رضا علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔
انٹر نیشنل نور مائکرو فلم سینٹر (دہلی) نے امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے پرمسرت موقع پر قدیمی شجروں کی مدد سے ساداتِ جارچہ کا شجرہ مکمل کردیا ہے۔
انٹر نیشنل نور مائکرو فلم سینٹر (دہلی) نے امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے پرمسرت موقع پر قدیمی شجروں کی مدد سے ساداتِ جارچہ کا شجرہ مکمل کردیا ہے۔
اس شجرہ میں امام علی رضا علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ایک
بیٹے کا نام "جعفرقانع" بھی بیان ہوا ہے۔ جعفر قانع خواجہ خضر بخاری کے
سترہویں دادا تھے یعنی سترہویں سلسلہ میں جاکر خواجہ خضر جعفر قانع سے مل جاتے
ہیں۔ خواجہ خضر، اورنگ زیب کے والد "شاہ جہاں" کی دعوت پربخارہ سے ہندوستان تشریف لائے تھے۔
خواجہ خضر بخاری کے تیسرے سلسلہ کے پوتے پیرعلی سبزواری اور
زندہ علی صاحبان جارچہ میں آکر بسے تھے۔ اس شجرہ میں مختلف قدیمی شجروں سے مدد لی
گئی ہے نیز خاندانوں کی تواریخ سے استفادہ کرتے ہوئے شجرہ کو آگے بڑھایا گیا ہے۔
جارچہ میں سات خاندان آباد ہیں:
(1)نوگھریہ خاندان: یہ خاندان چوپال کلاں کے ارد گرد آباد ہے اور اس محلہ کی مسجد اور اس کے امامباڑہ کے متولی بھی اسی خاندان کے لوگ بنتے آئے ہیں۔

(2)خاندان بندگی معظم: یہ
خاندان محلہ کاٹھا، ٹاپ اورپوستی خانہ میں آباد ہے۔

(3)خاندان چہارم یا چہارم والے: اس خاندان کے کچھ لوگ چھولس سادات میں آباد ہوئے اور کچھ لوگ جارچہ سادات میں آباد ہوئے۔ اس خاندان کو خاندان چہارم بھی تاریخ کے حساب سے کہا جاتا ہے جو زمین کے متعلق قضیہ رہا تھا۔ اس کی تفصیلات گلستان رضویہ(شجرہ چھولس سادات - छौलस ) تالیف مولانا ذاکر رضا رضوی چھولسی میں دستیاب ہوسکتی ہیں۔

(4)خاندان شاہ نعمت اللہ: اس خاندان میں بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں جن میں سے قاری جعفر علی جارچوی اور ان کے فرزند شمس العلماء مولانا قاری عباس حسین جارچوی کے اسماء قابل ذکر ہیں۔


(5)خاندان شاہ ابراہیم یا خاندان دلوالی: اس خاندان کے بزرگ "میر صحاب علی" دلّی سے آکر جارچہ سادات میں آباد ہوئے تھے اسی لئے یہ خاندان دلوالی کے نام سے معروف ہوا۔

(6)خاندان شاہ جعفرقانع(خاندان میر زندہ علی): اس خاندان کے بزرگ "میر زندہ علی" بڑی گلاؤٹھی سے آکر جارچہ میں آباد ہوئے، یہ اورنگ زیب کا زمانہ تھا، آپ نے جارچہ میں ہی شادی کی۔


(7)خاندان شاہ یعقوب: جناب اختر حسین، جناب مولوی مصداق الحسن اور جناب مقیم احمد صاحبان کی قلمی دستاویز کے مطابق اس خاندان کو شجرہ میں شامل کیا گیا۔
(1)نوگھریہ خاندان: یہ خاندان چوپال کلاں کے ارد گرد آباد ہے اور اس محلہ کی مسجد اور اس کے امامباڑہ کے متولی بھی اسی خاندان کے لوگ بنتے آئے ہیں۔


(3)خاندان چہارم یا چہارم والے: اس خاندان کے کچھ لوگ چھولس سادات میں آباد ہوئے اور کچھ لوگ جارچہ سادات میں آباد ہوئے۔ اس خاندان کو خاندان چہارم بھی تاریخ کے حساب سے کہا جاتا ہے جو زمین کے متعلق قضیہ رہا تھا۔ اس کی تفصیلات گلستان رضویہ(شجرہ چھولس سادات - छौलस ) تالیف مولانا ذاکر رضا رضوی چھولسی میں دستیاب ہوسکتی ہیں۔

(4)خاندان شاہ نعمت اللہ: اس خاندان میں بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں جن میں سے قاری جعفر علی جارچوی اور ان کے فرزند شمس العلماء مولانا قاری عباس حسین جارچوی کے اسماء قابل ذکر ہیں۔


(5)خاندان شاہ ابراہیم یا خاندان دلوالی: اس خاندان کے بزرگ "میر صحاب علی" دلّی سے آکر جارچہ سادات میں آباد ہوئے تھے اسی لئے یہ خاندان دلوالی کے نام سے معروف ہوا۔

(6)خاندان شاہ جعفرقانع(خاندان میر زندہ علی): اس خاندان کے بزرگ "میر زندہ علی" بڑی گلاؤٹھی سے آکر جارچہ میں آباد ہوئے، یہ اورنگ زیب کا زمانہ تھا، آپ نے جارچہ میں ہی شادی کی۔


(7)خاندان شاہ یعقوب: جناب اختر حسین، جناب مولوی مصداق الحسن اور جناب مقیم احمد صاحبان کی قلمی دستاویز کے مطابق اس خاندان کو شجرہ میں شامل کیا گیا۔
ان سات خاندانوں کے علاوہ جارچہ میں ایک خاندان"جعفری خاندان" کے نام سےبھی
آباد ہے، اس خاندان کی معلومات بھی جناب اختر حسین صاحب کی قلمی دستاویز سے
جو کچھ حاصل ہوا ، اس کی نقل اس شجرہ میں شامل کردی گئی ہے۔
شجرے اور خاندانی تاریخیں ہمارے مستقبل اور آئندہ نسلوں کے
لئے نہایت کار آمد ثابت ہوتے ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں تک بزرگوں کی باتیں پہنچانے
کا سب سے آسان راستہ یہی ہے۔
ہندوستان کے سادات اور ایران سے ہندوستان ہجرت کرنے والوں کا شجرہ منظّم کرنا، ایران اور ہندوستان کے مابین گہرے روابط کی دلیل ہے نیز آٹھ سو سال کے وقفہ میں ہندوستان میں اسلامی حکومتوں اور اسلام کی خدمات کو بیان کرتا ہے۔
ہندوستان کے سادات اور ایران سے ہندوستان ہجرت کرنے والوں کا شجرہ منظّم کرنا، ایران اور ہندوستان کے مابین گہرے روابط کی دلیل ہے نیز آٹھ سو سال کے وقفہ میں ہندوستان میں اسلامی حکومتوں اور اسلام کی خدمات کو بیان کرتا ہے۔
ساداتِ جارچہ کا شجرہ 35/سینٹی میٹر چوڑا اور 52/میٹر لمبا، محمدیوسف صاحب کے قلم سے کپڑے کے اوپر نور
مائکروفلم سینٹر (دہلی) میں لکھا گیا ہے۔
۞۞۞
Sunday, June 28, 2020
Chhaulas Sadat - Ek Mukhtasar Taarruf
چھولس سادات - ایک مختصر تعارف
مولانا سید غافر رضوی چھولسی (دہلی)
چھولس(Chhaulas छौलस - Chholas - )، ایک تاریخی بستی ہے جو
سادات کی بستی کہلاتی ہے؛ اس بستی کے سادات، ایران کے شہر "سبزوار" سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ اس بستی کے مورث اعلیٰ (میرسید علی سبزواری)سبزوار سے مختلف
مراحل طے کرتے ہوئے سرزمین چھولس سادات پر قیام پزیر ہوئے تھے۔ میرسید علی سبزواری کے فرزند ارجمند سید علی
اصغر سبزواری کا مزار مبارک چھولس کی کربلا میں ہی واقع ہے جو سادات چھولس کے
جدّامجد ہیں۔
چھولس سادات میں کافی تعداد میں امامبارگاہ موجود ہیں جو ایام عزا میں
اچھی طرح آباد رہتے ہیں۔چھولس سادات میں چار مسجدیں ہیں جن میں سے دومسجدیں شیعوں کی اور دو مسجدیں اہل سنت حضرات کی
ہیں۔ اس بستی میں ایک مدرسہ بھی ہے جس کو
جامعہ رضویہ کہا جاتا ہے اور یہ مدرسہ کافی قدیمی ہے، اس مدرسہ کی داغ بیل ڈالنے
والے: (1)مولانا سید شمشاد احمد رضوی گوپالپوری صاحب قبلہ(2)جناب سید آفاق حسین
چمن زیدی صاحب علیگڑھ (3) جناب سید محمد شفیع رضوی
چھولسی (سابق پردھان) ہیں۔
نمونہ کے طور پر مسجد، امامباڑے اور مدرسہ کی کچھ تصاویر اسی مضمون کے آخر
میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
جغرافیائی اعتبار سے چھولس سادات:
چھولس کا جغرافیہ
یہ بستی پہلے تو ضلع بلند شہر میں واقع تھی اس کے بعد غازی آباد اور حال
حاضر میں یہ بستی گوتم بدھ نگر (نوئیڈا یا گریٹر نوئیڈا) میں شمار ہوتی ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے چھولس سادات، دہلی سے پچاس کیلو میٹر؛ غازی آباد سے اکتیس کیلو میٹراور دادری سے تیرہ
کیلو میٹر مشرق کی طرف۔ نیز بلند شہر سے اٹھائیس کیلو میٹر اورسکندرآباد سے تیرہ
کیلو میٹر مغرب کی طرف واقع ہے۔ دادری اور سکندرآباد کے درمیان میں ایک نہر کا پُل
ہے جس کو کوٹ کا پُل کہتے ہیں اس پُل سے ساڑھے چار کیلو میٹر شمال(اتر)کی طرف واقع ہونے والی
بستی کا نام چھولس سادات ہے۔
نوٹ: تفصیل طلب حضرات (علمائے چھولس سادات
ویکیپیڈیا اور گلستان رضویہ کی جانب رجوع کرسکتے ہیں)
Masjid - Mosque Chhaulas - Chholas Abbas Nagar Uttar Pradesh Gautam Budh Nagar. G.B. Nagar. Greater Noida U.P.
مسجد چھولس سادات عباس نگر یوپی گوتم بدھ نگر - جی بی نگر یوپی ۔ گریٹر نوئیڈا
Jama Masjid - Mosque Chhaulas - Chholas Uttar Pradesh Gautam Budh Nagar. G.B. Nagar. Greater Noida U.P.
جامع مسجد چھولس سادات یوپی گوتم بدھ نگر - جی بی نگر یوپی ۔ گریٹر نوئیڈاBada Imambada - Imam Bargaah - Chhaulas Sadat Abbas Nagar Chholas -Masjid - Uttar Pradesh Gautam Budh Nagar. G.B. Nagar. Greator Noida U.P.
امامباڑہ امام بارگاہ چھولس سادات عباس نگر یوپی گوتم بدھ نگر - جی بی نگر یوپی ۔ گریٹر نوئیڈا
Karbala Chhaulas - Chholas Uttar Pradesh Gautam Budh Nagar. G.B. Nagar. Greater Noida U.P.
کربلا چھولس سادات یوپی گوتم بدھ نگر - جی بی نگر یوپی ۔ گریٹر نوئیڈاJamia Rizvia - Chhaulas - Chholas Abbas Nagar Uttar Pradesh Gautam Budh Nagar. G.B. Nagar. Greator Noida U.P.
جامعہ رضویہ چھولس سادات عباس نگر یوپی گوتم بدھ نگر - جی بی نگر یوپی ۔ گریٹر نوئیڈا
Saturday, June 20, 2020
Wednesday, February 12, 2020
Nikah Nama Namuna (Example)
Nikah Nama Namuna - Example - Ideal Nikah Nama - نکاح نامہ نمونہ - ایکزامپل - آئیڈیل
Author: Maulana Syed Ghafir Rizvi Chhaulsi. مصدقہ: مولانا سید غافر رضوی چھولسی
Contact us For Nikah Nama: Ph: +91-9958741672. Email: saghareilm@gmail.com. رابطہ کیجئے
Nikah Nama Namuna - Example - Ideal Nikah Nama - نکاح نامہ نمونہ - ایکزامپل - آئیڈیل
Author: Maulana Syed Ghafir Rizvi Chhaulsi. مصدقہ: مولانا سید غافر رضوی چھولسی
Contact us For Nikah Nama: Ph: +91-9958741672. Email: saghareilm@gmail.com. رابطہ کیجئے
Author: Maulana Syed Ghafir Rizvi Chhaulsi. مصدقہ: مولانا سید غافر رضوی چھولسی
Contact us For Nikah Nama: Ph: +91-9958741672. Email: saghareilm@gmail.com. رابطہ کیجئے
Nikah Nama Namuna - Example - Ideal Nikah Nama - نکاح نامہ نمونہ - ایکزامپل - آئیڈیل
Author: Maulana Syed Ghafir Rizvi Chhaulsi. مصدقہ: مولانا سید غافر رضوی چھولسی
Contact us For Nikah Nama: Ph: +91-9958741672. Email: saghareilm@gmail.com. رابطہ کیجئے
Tuesday, January 28, 2020
Fatima Zahra sa. Aalam e Insaniyat ke Liey Namuna e Amal
فاطمہ زہرۖا عالم انسانیت کے لئے نمونہ عمل
.0 / 5
Author: Maulana Syed Ghafir Rizvi Chhaulsi
تالیف: مولانا سید غافر حسن رضوی چھولسی
وہ پر آشوب دور جس میں ظلم و تشدد کا دور دورہ تھا جس میں انسانیت کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا جس زمانہ کے ضمیر فروش بے حیا انسان کے لبادہ میں حیوان صفت افراد انسان کو زندہ در گور کر کے فخر و مباہات کیا کرتے تھے جو عورت ذات کو ننگ و عار سمجھتے تھے یہ وہ تشدد آمیز ماحول تھا جس میں ہر سمت ظلم و ستم کی تاریکی چھائی ہوئی تھی اسی تاریکی کو سپیدی سحر بخشنے کے لئے افق رسالت پر خورشید عصمت طلوع ہوا جس کی کرنوں نے نگاہ عالم کو خیرہ کر دیا اسی منجلاب میں ایک گلاب کھلا جس کی خوشبو نے مشام عالم کو معطر کر دیا ایسے ماحول میں دختر رحمة العالمین نے تشریف لا کر اس جاہل معاشرہ کو یہ سمجھا دیا کہ ایک لڑکی باپ کے لئے کبھی بھی سبب زحمت نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ رحمت ہوتی ہے لیکن وہ حقیقت فراموش اس حقیقت کو بھلا بیٹھے تھے کہ جو وجہ خلقت انسان ہے وہ بھی ایک عورت ہے فاطمہ زہرا ۖ دنیا میں کیا آئیں معاشرہ عرب میں ایک انقلاب برپا ہو گیا اگر اس بات کی ان جملوں کے ذریعے وضاحت کی جائے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ گنگا الٹی بہنے لگی آفتاب مغرب سے طلوع ہونے لگا عرش فرش اور فرش و عرش سے تبدیل ہو گئے چونکہ ایسے پر آشوب ماحول میں امن و امان ہو جانا ایک نا ممکن امر ہے جو معاشرہ بیٹی کا وجود اپنے اوپر بار سمجھتا تھا وہ معاشرہ آج بیٹی کو سر کا تاج شمار کرنے لگا جو سماج کل تک بیٹی کو منجلاب گرا دانتا تھا وہ سماج آج بیٹی کو گلاب سمجھنے لگا گویا کہ کل انسان تاریکی میں تھا فاطمہ کی آمد نے اس کی تاریکی کو تنویر سے بدل دیا اور زیادہ وضاحت کے لئے اس طرح تعبیر کیا جائے کہ فاطمہ زھراۖ باغ رسالت کا وہ تنہا ترین پھول ہے جس کی نظیر نا ممکن ہے پروردگار نے مردوں کی ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو روئے زمین پر بھیجا نبوت کے بعد سلسلہ امامت جاری کیا لیکن فاطمہ زہرا ۖ عالم نسواں کی تنہا ترین سردار ہیں شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
اکلوتی فاطمہ ۖ ہیں قسم لا شریک کی
قرآن مصطفی میں اضافہ نہ کیجئے
(نجمی فیض آبادی )
یعنی جس طرح خدا کا کوئی ثانی نہیں اسی طرح فاطمہ بھی بے مثل ہیں جس طرح قرآن پاک میں اضافہ ممکن نہیں اسی طرح دختر رسول بھی یک و تنہا ہے شاعر نے آواز دی ……
آپ ہی سورہ کوثر کی فقط ہیں مصداق
بیٹیاں چاہے بناتی رہے تاریخ ہزار
( غافر چھولسی )
تاریخ فاطمہ ۖ کے سوا تین بیٹیاں کیا اگر ہزار بیٹیاں بھی بتاتی رہے تو سورہ کوثر پھر بھی فاطمہ ۖ کی توصیف کرتا رہیگا یہ سورہ ایسا ہے کہ جن حضرات کو اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا وہ بھی اس مختصر سورہ کے آگے منہ کی کھاتے نظر آئے یہ ان کا ذوق شاعری تھا کہ ایک مصرعہ کا اور اضافہ کر دیا ……
انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر
ان شانئک هو الابتر ما هذا کلام البشر
اکلوتی فاطمہ ۖ ہیں قسم لا شریک کی
قرآن مصطفی میں اضافہ نہ کیجئے
(نجمی فیض آبادی )
یعنی جس طرح خدا کا کوئی ثانی نہیں اسی طرح فاطمہ بھی بے مثل ہیں جس طرح قرآن پاک میں اضافہ ممکن نہیں اسی طرح دختر رسول بھی یک و تنہا ہے شاعر نے آواز دی ……
آپ ہی سورہ کوثر کی فقط ہیں مصداق
بیٹیاں چاہے بناتی رہے تاریخ ہزار
( غافر چھولسی )
تاریخ فاطمہ ۖ کے سوا تین بیٹیاں کیا اگر ہزار بیٹیاں بھی بتاتی رہے تو سورہ کوثر پھر بھی فاطمہ ۖ کی توصیف کرتا رہیگا یہ سورہ ایسا ہے کہ جن حضرات کو اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز تھا وہ بھی اس مختصر سورہ کے آگے منہ کی کھاتے نظر آئے یہ ان کا ذوق شاعری تھا کہ ایک مصرعہ کا اور اضافہ کر دیا ……
انا اعطیناک الکوثر فصل لربک وانحر
ان شانئک هو الابتر ما هذا کلام البشر
یہ کلام کسی بشر کا نہیں ہے بلکہ اس سے تو خا لق بشر کی جھلک آرہی ہے چونکہ عرب کے بددئوں کو عورت کی قدر و منزلت معلوم نہیں تھی اسی عدم علمی کی بنیاد پر عورت کو ہر وراثت سے محروم کر دیا گیا اور جعلی حدیث لا کر خرافاتیاںشروع کر دیں کہ رسول اکرم ۖ کا فرمان ہے : نحن معاشر الانبیاء لا نورث ولا نورث
ہم گروہ انبیاء نہ تو کسی کو وارث بناتے ہیں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں لیکن دختر رسول نے باغ فدک کے مسئلہ میں قیام کر کے یہ سمجھا دیا کہ اسلام نے عورت کو بھی وراثت سے محروم نہیں رکھا بلکہ اسلام میں عورت کا حق ہے اور ایک مقام ہے چونکہ فاطمہ زہرا ۖ نے رسول اکرم ۖ کے دہن مبارک سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ ۔۔
یا فاطمہ ان اللہ تعالیٰ امر نی ان ادفع الیک فدک … اے ( میری بیٹی ) فاطمہ مجھے پروردگار عالم نے حکم دیا ہے کہ میں باغ فدک تمہیں بخش دوں ۔
اب دنیا چاہے وراثت کے سلسلہ میں چاہے کتنی ہی حدیثیں گڑھتی رہے ۔فاطمہ زہرا ۖ رسول ۖ سے اس قدر محبت و شفقت سے پیش آتی تھیں کہ رسول ۖ فرماتے نظر آئے : فاطمة ام ابیھا : فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے رسول بے جب فاطمہ میں ماں والی شفقت دیکھی توماں کہہ دیا یا شاید اسی وجہ سے رسول ۖ فاطمہ کی تعظیم کیا کرتے تھے اب اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی چونکہ ماں کی تعظیم واجب ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہاں ایک سوال سر اٹھائے کہ رسول نے فاطمہ کو ماں جو کہا ہے وہ مجاز کہا ہے حقیقت میں ماں تو نہیں بن گئیں ؟ بیٹی ہی رہینگی اور بیٹی پر باپ کا احترام واجب ہوتا ہے نہ کہ باپ پر بیٹی کا اور یہاں منظر بالکل بر عکس نظر آرہا ہے اس جگہ پر آپ کا اعتراض بالکل صحیح ہے چونکہ منظر واقعاً بر عکس ہے تو سن لیجئے نہ تو رسول فاطمہ کی عزت بیٹی کی حیثیت سے کرتے تھے نہ ماں کہنے کی وجہ سے احترام کرتے تھے بلکہ رسالت تعظیم عصمت کے لئے کھڑی ہوتی تھی رسول اسلام فاطمہ ۖ کی توصیف میں گویا ہیں ( کتاب بشارة المصطفیٰ ) اب کلام رسول کی توجیہہ کسی بھی طرح کر لیجئے یا تو کہئے بیٹی تھیں اسی وجہ سے عزیز تھیں یا بمطابق قول رسول ماں کی حیثیت سے عزیز تھیں دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فاطمہ کا غم و غصہ خدا کا غیظ و غضب ہے اور فاطمہ کی خوشی خوشنودی خدا ہے ( کتاب کنز العمال )
ہم گروہ انبیاء نہ تو کسی کو وارث بناتے ہیں نہ کسی کے وارث بنتے ہیں لیکن دختر رسول نے باغ فدک کے مسئلہ میں قیام کر کے یہ سمجھا دیا کہ اسلام نے عورت کو بھی وراثت سے محروم نہیں رکھا بلکہ اسلام میں عورت کا حق ہے اور ایک مقام ہے چونکہ فاطمہ زہرا ۖ نے رسول اکرم ۖ کے دہن مبارک سے یہ فرماتے ہوئے سنا تھا ۔ ۔۔
یا فاطمہ ان اللہ تعالیٰ امر نی ان ادفع الیک فدک … اے ( میری بیٹی ) فاطمہ مجھے پروردگار عالم نے حکم دیا ہے کہ میں باغ فدک تمہیں بخش دوں ۔
اب دنیا چاہے وراثت کے سلسلہ میں چاہے کتنی ہی حدیثیں گڑھتی رہے ۔فاطمہ زہرا ۖ رسول ۖ سے اس قدر محبت و شفقت سے پیش آتی تھیں کہ رسول ۖ فرماتے نظر آئے : فاطمة ام ابیھا : فاطمہ اپنے باپ کی ماں ہے رسول بے جب فاطمہ میں ماں والی شفقت دیکھی توماں کہہ دیا یا شاید اسی وجہ سے رسول ۖ فاطمہ کی تعظیم کیا کرتے تھے اب اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی چونکہ ماں کی تعظیم واجب ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ یہاں ایک سوال سر اٹھائے کہ رسول نے فاطمہ کو ماں جو کہا ہے وہ مجاز کہا ہے حقیقت میں ماں تو نہیں بن گئیں ؟ بیٹی ہی رہینگی اور بیٹی پر باپ کا احترام واجب ہوتا ہے نہ کہ باپ پر بیٹی کا اور یہاں منظر بالکل بر عکس نظر آرہا ہے اس جگہ پر آپ کا اعتراض بالکل صحیح ہے چونکہ منظر واقعاً بر عکس ہے تو سن لیجئے نہ تو رسول فاطمہ کی عزت بیٹی کی حیثیت سے کرتے تھے نہ ماں کہنے کی وجہ سے احترام کرتے تھے بلکہ رسالت تعظیم عصمت کے لئے کھڑی ہوتی تھی رسول اسلام فاطمہ ۖ کی توصیف میں گویا ہیں ( کتاب بشارة المصطفیٰ ) اب کلام رسول کی توجیہہ کسی بھی طرح کر لیجئے یا تو کہئے بیٹی تھیں اسی وجہ سے عزیز تھیں یا بمطابق قول رسول ماں کی حیثیت سے عزیز تھیں دوسری جگہ ارشاد فرمایا : فاطمہ کا غم و غصہ خدا کا غیظ و غضب ہے اور فاطمہ کی خوشی خوشنودی خدا ہے ( کتاب کنز العمال )
فاطمہ زہرا بحیثیت زوجہ :
فاطمہ زہرا ۖ بیاہ کر علی مرتضیٰ کے بیت الشرف میں تشریف لے گئیں دوسرے روز رسول اکرم بیٹی اور داماد کی خیریت معلوم کرنے گئے ۔ علی ۖسے سوال کیا یا علی تم نے فاطمہ کو کیسا پایا ؟ علی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ، یا رسول اللہ ۖمیں نے فاطمہ کو عبادت پروردگار میں بہترین معین و مددگار پایا ( کتاب بحار الانوار ج٤٣ )
گویا علی یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زوجہ قابل تعریف وہی ہے جو اطاعت شوہر کے ساتھ ساتھ مطیع پروردگار بھی ہو شاعر نے اس بات کو ایسے نظم کیا ۔
حسن سیرت کے لئے خوبی سیرت ہے ضرور
گل و ہی گل ہے جو خوشبو بھی دے رنگت کے سوا
چونکہ حسن دائمی نہیں ہوتا عمل دائمی ہوتا ہے آخرت میں دنیا وی حسن کام آنے والا نہیں بلکہ نیک اعمال ساتھ دینگے ۔ علی سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول ۖ فاطمہ ۖ کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول نے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ ۖ نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا بابا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا ۔ فاطمہ ۖ نے اپنے شیعوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیئے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو ۔
لاکھوں سلام ہو ہمارا اس شہزادی پر جس کا مہر ایک زرہ (جس کی ارزش پانچ سو درہم تھی ) اور ایک کتان کا بنا ہوا معمولی ترین لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال …… تھا( وافی کتاب النکاح ) فاطمہ ۖ کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم ۖ فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو ( وافی کتاب النکاح )
مصحف ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرماتے ہیں : کسی خاتون کا مہر زیادہ ہونا باعث فضیلت نہیں قابل مذمت ہے بلکہ مہر کا کم ہونا باعث عزت و شرافت ہے ( وافی کتاب النکاح )
لیکن ہزار حیف امت رسول کو کیا ہوگیا ؟ بیٹی کے گھر والے یہ سوچ کر مہر زیادہ معین کرتے ہیں کہ مہر زیادہ رہے گا تو لڑکا اس کے وزن میں دبا رہے گا اور ہماری لڑکی طلاق سے محفوظ رہے گی اور جب مہر معین پر لڑکے سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس مہر پر راضی ہو تو لڑکا یہ سوچ کر جواب اثبات میں سر ہلا دیتا ہے کہ دینا تو ہے ہی نہیں ہاں کرنے میں کیا جاتا ہے ۔
لیکن عزیزو ! مہر واجب الادا ہوتا ہے صرف سر ہلانے سے کام چلنے والا نہیں ہے بلکہ عمل کا جامہ پہنانا واجب و لازم ہے ۔ جس طرح فاطمہ ۖ کا مختصر سا مہر تھا اسی طرح جہیز بھی مختصر سا تھا اس زمانہ ( حال حاضر ) کے اعتبار سے تو بہت ہی کم نظر آتا ہے ۔یہ بات صحیح ہے کہ زمانے کے کچھ تقاضے ہوا کرتے ہیں وقت بھی کچھ اقتضا کرتا ہے لیکن … اساس شریعت اسلام عقل و شعور ہے کسی بھی حال میں عقل سلیم اس بات کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتی کہ اپنے دولت خانہ کو غریب خانہ بنا کر دوسرے کے گھر کو دولت کدہ بنا دیا جائے بلکہ زمانہ اور وقت چاہے کتنے ہی چیختے چلاتے رہیں عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ خوش و خرم اپنی حیثیت کے مطابق لڑکی کو جہیز دیا جائے ہمارے معاشرہ میں مثال مشہور ہے پیر صرف اتنے پھیلانے چاہئیں جتنی وسیع چادر ہو اگر وسعت سے زیادہ پیر پھیلائیں گے تو اس کا نتیجہ واضح ہے ۔
گویا علی یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زوجہ قابل تعریف وہی ہے جو اطاعت شوہر کے ساتھ ساتھ مطیع پروردگار بھی ہو شاعر نے اس بات کو ایسے نظم کیا ۔
حسن سیرت کے لئے خوبی سیرت ہے ضرور
گل و ہی گل ہے جو خوشبو بھی دے رنگت کے سوا
چونکہ حسن دائمی نہیں ہوتا عمل دائمی ہوتا ہے آخرت میں دنیا وی حسن کام آنے والا نہیں بلکہ نیک اعمال ساتھ دینگے ۔ علی سے جواب دریافت کرنے کے بعد رسول ۖ فاطمہ ۖ کی طرف متوجہ ہوئے تو عجیب منظر نظر آیا ایک شب کی بیاہی بوسیدہ لباس پہنے بیٹھی ہے رسول نے سوال کیا بیٹی تمہارا لباس عروسی کیا ہوا بوسیدہ لباس کیوں پہن رکھا ہے ؟ فاطمہ ۖ نے جواب دیا بابا میں نے آپ کے دہن مبارک سے یہ سنا ہے کہ راہ خدا میں عزیز ترین چیز قربان کرنی چاہئے بابا آج ایک سائل نے دروازہ پر آکر سوال کیا تھا مجھے سب سے زیادہ عزیز وہی لباس تھا بابا میں نے وہ لباس راہ خدا میں دیدیا ۔ فاطمہ ۖ نے اپنے شیعوں کو درس دیا کہ خدا کو ہر حال میں یاد رکھنا چاہیئے اگر تمہارے پاس صرف دو لباس ہیں اور ان میں سے ایک زیادہ عزیز ہے تو اس لباس کو راہ خدا میں خیرات کر دو ۔
لاکھوں سلام ہو ہمارا اس شہزادی پر جس کا مہر ایک زرہ (جس کی ارزش پانچ سو درہم تھی ) اور ایک کتان کا بنا ہوا معمولی ترین لباس اور ایک رنگی ہوئی گوسفند کی کھال …… تھا( وافی کتاب النکاح ) فاطمہ ۖ کا یہ معمولی سا مہر خواتین عالم کو درس قناعت دے رہا ہے کہ جتنا بھی ملے اس پر شکر خدا کر کے راضی رہنا چاہئے یہی وجہ تھی کہ رسول اکرم ۖ فرمایا : میری امت کی بہترین خواتین وہ ہیں جن کا مہر کم ہو ( وافی کتاب النکاح )
مصحف ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرماتے ہیں : کسی خاتون کا مہر زیادہ ہونا باعث فضیلت نہیں قابل مذمت ہے بلکہ مہر کا کم ہونا باعث عزت و شرافت ہے ( وافی کتاب النکاح )
لیکن ہزار حیف امت رسول کو کیا ہوگیا ؟ بیٹی کے گھر والے یہ سوچ کر مہر زیادہ معین کرتے ہیں کہ مہر زیادہ رہے گا تو لڑکا اس کے وزن میں دبا رہے گا اور ہماری لڑکی طلاق سے محفوظ رہے گی اور جب مہر معین پر لڑکے سے معلوم کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس مہر پر راضی ہو تو لڑکا یہ سوچ کر جواب اثبات میں سر ہلا دیتا ہے کہ دینا تو ہے ہی نہیں ہاں کرنے میں کیا جاتا ہے ۔
لیکن عزیزو ! مہر واجب الادا ہوتا ہے صرف سر ہلانے سے کام چلنے والا نہیں ہے بلکہ عمل کا جامہ پہنانا واجب و لازم ہے ۔ جس طرح فاطمہ ۖ کا مختصر سا مہر تھا اسی طرح جہیز بھی مختصر سا تھا اس زمانہ ( حال حاضر ) کے اعتبار سے تو بہت ہی کم نظر آتا ہے ۔یہ بات صحیح ہے کہ زمانے کے کچھ تقاضے ہوا کرتے ہیں وقت بھی کچھ اقتضا کرتا ہے لیکن … اساس شریعت اسلام عقل و شعور ہے کسی بھی حال میں عقل سلیم اس بات کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتی کہ اپنے دولت خانہ کو غریب خانہ بنا کر دوسرے کے گھر کو دولت کدہ بنا دیا جائے بلکہ زمانہ اور وقت چاہے کتنے ہی چیختے چلاتے رہیں عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ خوش و خرم اپنی حیثیت کے مطابق لڑکی کو جہیز دیا جائے ہمارے معاشرہ میں مثال مشہور ہے پیر صرف اتنے پھیلانے چاہئیں جتنی وسیع چادر ہو اگر وسعت سے زیادہ پیر پھیلائیں گے تو اس کا نتیجہ واضح ہے ۔
فاطمہ ز ھرا ۖبحیثیت مادر :
چونکہ پروردگار عالم کا یہ مصمم ارادہ تھا کہ پیشوائے دین اور خلفائے رسول صدیقہ طاہرہ کی نسل سے ہوں اسی لئے آپ کی سب سے بڑی اور سخت ذمہ داری تربیت اولاد تھی ، تربیت اولادظاہر میں ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن اس میں بہت مہم اور وسیع معنی مخفی ہیں ۔ تربیت صرف اسی کا نام نہیں ہے کہ اولاد کے لئے لوازم زندگی اور عیش و آرام فراہم کر دئے جائیں اور بس …… بلکہ یہ لفظ والدین کو ان کے ایک عظیم وظیفہ کا مسئول قرار دیتا ہے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ سے اولاد کا کسی عہدہ پر فائز ہونا بھی تربیت والدین کا مرہون منت ہے فاطمہ اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ انھیں اماموں کی پرورش کرنی ہے ایسے بچوں کی پرورش کرنی ہے کہ اگر اسلام صلح و آشتی سے محفوذظ رہتا ہے تو صلح کریں اگر اسلام کی حفاظت جنگ کے ذریعہ ہو رہی ہے تو جھاد فی سبیل اللہ کے لئے قیام کریں چاہے ظہر سے عصر تک بھرا گھر اجڑ جائے لیکن اسلام پر آنچ نہ آئے اگر اسلام ان کے گھر انہ کے برہنہ سر ہونے سے محفوظ رہتا ہے تو سر کی چادر کو عزیز نہ سمجھیں عزیزو دوستو ! فاطمہ ۖ ان کوتاہ فکر خواتین میں سے نہیں تھیں کہ جو گھر کے ماحول کو معمولی شمار کرتی ہیں بلکہ آپ گھر کے ماحول کو بہت بڑا اور حساس گردانتی تھیں آپ کے نزدیک دنیا کی سب سے بڑی درسگاہ آغوش مادر تھی اس کے بعد گھر کا ماحول اور صحن خانہ بچوں کے لئے عظیم مدرسہ تھا ، ایسا نہ ہو ہم خود کو ان کا شیعہ شمار کرتے رہیں لیکن ان کی سیرت سے دور دور تک تعلق نہ ہو ان کے احکام و فرامین پس پشت ڈال دیں۔ پروردگار ہمیں سیرت اہلبیت علیہم السلام پرعمل پیرا ہونے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین "والسلام علی من اتبع الھدیٰ"۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
Sirajul Mubin Vol-2 - Hindi
Sirajul Mubin Hindi Translate Vol-2 Hindi Translator: Moulana S. Tasdiq Husain Rizvi and Maulana S. Ghafir Rizvi Falak Chhaulsi - Author: A...
-
چھولس سادات - ایک مختصر تعارف مولانا سید غافر رضوی چھولسی (دہلی) چھولس( Chhaulas छौलस - Chholas - )، ایک تاریخی بستی ہے جو ...
-
Baustan e Falak - Manaqib . Author: Hujjatul Islam Maulana Syed Ghafir Rizvi Falak Chhaulsi . Majmua e Kalaam Qasida, Manaqib, Qat'aat ...
-
Books Name: Saad Bin Abi Waqqas Ka Haqiqi Chehra Tarikh Ke Aaine Me, Translate By: Maulana Syed Ghafir Rizvi Falak Chhaulsi - Author: Ayt. S...


















